Chaar Raten Novel – Part 6

چار راتیں
قسط نمبر :6
بقلم : فیضان احمد

آمش اور شایان نے اب کی بار خود کو ایک انجان راستے پر پایا ، جہاں نہ جانے گاڑی روڈ پر چل رہی تھی یا زمین سے اوپر تھی، البتہ دونوں جانب خطرناک حد تک اندھیراچھایا ہوا تھا، روشنی کسی جگنو ئوں کے جھرمٹ کے مانند مختلف جگہوں سے ابھرتی اور ڈوبتی نظر آرہی تھی جس میں وہ بمشکل ایک دوسرے کو دیکھ پا رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ اس جگہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھے، گاڑی کی رفتار ایک ہی جگہ رک گئی تھی اور گاڑی خود بخود چل رہی تھی۔
” تم چاہتے تو بچا سکتے تھے” گاڑی کے عقب سے آواز ابھری اور اتنی زور سے کہ خوف کے مارے ان دونوں کی آواز بند ہو گئی، اس آواز کی گونج سنائی دیتی رہی ، گاڑی ایک ہی رفتار سے چلتی چلی جا رہی تھی ۔ یہ وہی خوفناک آواز تھی جو شایان آج دوسری بار سن رہا تھا۔ ایک لمحے کے لئے بھی دونوں نے ہمت نہ ہاری اور گاڑی کو موڑنے اور روکنے کی کوششوں میں لگے رہے جو کہ ان کے کنٹرول میں نہیں تھی۔
دونوں نے زور زور سے جو بھی آیات ِ قرانی یاد تھی پڑھنا شروع کر دیں اورانہیں اپنی موت کا پورا یقین ہو چکا تھا ۔
یہ ایسی انجان جگہ تھی جو ان کے حساب سے کوئی عام راستہ یا روڈ نہیں تھا، کچھ ایسی جگہ جو نا قابل بیان تھی۔
اور ایک لمحہ ایسا آیا جب ان دونوں کو ہی گاڑی کے سامنے ایک عورت اور بچی دکھائی دئیے، وہ سامنے روڈ کراس کر رہے تھے اور گاڑی انہی کی جانب بڑھ رہی تھی، آمش نے اپنی پوری قوت سے گاڑی کا ہینڈل گھمایا لیکن گاڑی پھر بھی ان سے ٹکراتی ہوئی آگے جا نکلی ۔ یہ منظر شایان بھی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور اس کے لب سل گئے تھے۔
اس کے فوراً بعد ہی ایک بار پھر مکمل اندھیرا ہونے لگا۔
آمش نے گھر کے دروازے کے عین سامنے گاڑی کا بریک مارا تھا۔
حقیقتا آمش کا پیر بریک سے ہٹا ہی نہیں تھا اور اس اندھیرے کی زد سے نکلتے ہی بریک نے کام کرنا شروع کر دیا تھا جبکہ وہ راستے میں ہونے کی بجائے اب آمش کے گھر کے سامنے موجود تھے۔
شایان اب تک آوازیں اور وہ جگہ اپنے ارد گرد محسوس کر رہا تھا اچانک بریک لگنے سے ڈیش بورڈ سے ٹکرایا۔
وہ دونوں پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کی جانب اور کبھی سامنے گھر کے دروازے کو بے یقینی کے عالم میں دیکھنے لگے، گویا وہ کسی خواب سے جاگے ہوں۔
دونوں بہت دیر تک بنا کوئی بات کئے گاڑی میں ہی بیٹھے اپنی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے ۔
“یہ کیا ہوا آمش” شایان کی لرزتی آواز نے خاموشی کی دیوار گرائی۔
“لگتا ہے کوئی ہمارا گھر میں انتظار کر رہا ہے” آمش ایک گھری سانس لے کر کہا۔
معلوم ہوتا تھا وہ کسی بہت بڑے خطرے کو محسوس کر رہا ہو اور خود کو اس کے لئے تیار کر رہا ہو۔
گاڑی سے اتر کر اس کے دروازے کے ساتھ کھڑا ہو گیا ، گہری سانسوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اپنے گھر پر نظریں جمائے کسی گھری سوچ میں ڈوبا ہوا لگ رہا تھا۔
وہ ایک خوبصورت بنگلے نما گھر تھا، دروازے سے اندر گھستے ہی کار پارکنگ کی جگہ ، الٹے ہاتھ پر چھوٹا سا گارڈن ۔ باہر سے نظر آنے والی اوپری منزل جہاں اس کا کمرہ تھا اور ساتھ بالکنی ، اس سے اوپر چھت جس کی دیوار اسے باہر سے نظر آرہی تھی۔
دیواروں پر انگور کی بیل چڑھی ہوئی تھی اور اس میں ہرے اور پیلے گوشے لٹک رہے تھے۔آج اپنے گھر کو وہ کچھ عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے کوئی جنگ لڑنے اس گھر میں داخل ہونے والا ہو، حقیقت بھی کچھ الگ نہ تھی، جو حالات اور وقت اس کا گزر رہا تھا اس کے لئے کسی جنگ سے کم نہیں تھا۔
” کیا سوچ رہا ہے آمش” شایان گاڑی سے نکل کر اس کے پاس آچکا تھا۔
“یار آج میں اپنے ہی گھر میں گھسنے سے ڈر رہا ہوں” آمش کی آواز مدھم اور روہانسی تھی۔
“جو کچھ ابھی ہمارے ساتھ ہوا ہے، کیا وہ حقیقت تھی؟ یہ ہمارا کوئی وہم یا خواب” شایان نے آمش کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے گھر کی جانب نظر دوڑا کر پوچھا۔
“میں نہیں جانتا وہ خواب تھا یہ ہمارے دماغ پر کسی کا قبضہ، میں نے یہ جانا کہ اس جگہ داخل ہونے سے پہلے ہم راستے میں کسی اور جگہ تھے اور اس سے نکل کر میرے گھر کے باہر۔۔۔ ” آمش نے گہری سوچ کے ساتھ ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا اور اس کی نظریں اب تک سامنے گھر پر ٹکی ہوئی تھیں۔
“آمش۔۔۔” شایان نے سوچتے ہوئے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
“ہممم” آمش نے سوالیہ انداذ میں بنا اس کی جانب دیکھے کہا
“چل یار واپس چلتے ہیں، میرے گھر رک جاتے ہیں” شایان نے ڈرتے ڈرتے اپنے اندر کا خوف باہر نکالا۔
” کچھ نہیں ہوگا، آ جاؤ” آمش یہ کہتا ہوا چلنے لگا
گھر میں داخل ہو کر اس نے تمام لائٹس آن کیں اور شایان کے ساتھ مل کر کمروں میں موجود سی سی ٹی وی کیمرے اور ان کی سمت اور کوریج جگہ کا اچھی طرح معائنہ کیا۔
سی سی ٹی وی کیمرے گھر کے باہری حصے سمیت دو تین خاص آمدورفت کی جگہوں کو کور کئے ہوئے تھے۔
رکنے اور رات سونے کے لئے گراؤنڈ فلور پر موجود ہال نما کمرے کا تعین کیا جہاں کیمرہ ایک کھلے حصے سمیت کچن اور دیگر حصے بھی کور کر رہا تھا۔
“میرا خیال ہے یہ ٹی وی لاؤنج کی جگہ ٹھیک رہے گی جہاں صوفے ہیں، ہم ادھر ہی رات سوتے ہیں جس سے کیمرے کی زد میں رہیں گے” شایان نے اچھی طرح سب جگہیں دیکھ کر اپنا مشورہ پیش کیا۔
“ہاں جگہ تو صحیح ہے لیکن ادھر ایک صوفہ ہے ، ہمیں چھوٹے صوفے ہٹا کر ادھر بھی سونے کی جگہ بنانی ہوگی” آمش نے جگہ کا معائنہ کرتے ہوئے کہا۔
“یار تیرے گھر میں کوئی فوم کا گدا ،یہ بستر وغیرہ ہو تو وہ لے آ، میں زمین پر اسے بچھا کر سو جاؤنگا” شایان نے یہ کہ کر مشکل آسان کر دی۔
آمش بستر لا نے کی غرض سے اپنے روم کی طرف اوپر چلا گیا جب کہ شایان ادھر ہی ٹی وی آن کر کے صوفے پر پاؤں پھیلا کر لیٹ گیا۔
اوپر فلور پر آمش لائٹس آن کرتا ہوا سٹور نما کمرے میں بستر لینے کی غرض سے چلا گیا جبکہ شایان نیچے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔
اسٹور کی طرف ان کا جانا بلکل نا جانے کے برابر تھا، ادھر کبھی انکا کام ہی نہیں پڑتا تھا۔ جونہی آمش اسٹور روم کی طرف بڑھ رہا تھا اس کے ڈر میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ وہ ان حالات کے اتنا زیر اثر تھا کے اسے ہر لمحے اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔
نہ جانے کیوں اس کے قدم اسٹور روم جاتے جاتے رک گئے ۔
“شایان ن بات سن” اس نے اوپر سے ہی شایان کو آواز دے کر بلایا
کچھ دیر میں شایان اس کے ساتھ اوپر موجود تھا
“یار یہ اسٹور روم میں کچھ سونے کے گدے اور بستر چادریں وغیرہ ہیں، چل آ اندر سے نکالتے ہیں” آمش نے اپنا ڈر چھپاتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لیا
شایان بھی اس کو بلانے کا مقصد سمجھ چکا تھا بنا کچھ بولے لیکن ڈرتے ڈرتے اسٹور روم کی طرف بڑھ گیا۔
دونوں نے ڈرتے ڈرتے اسٹور روم کا دروازہ کھولا چونکہ وہ کئی مہینوں سے کسی نے کھولا تک نہیں تھا۔
کھولتے ہی ڈر کی ایک لہر ان کے جسم میں دوڑی ، اندر مکمل اندھیرا تھا ، فوراً لائٹ کا سوئچ دبایا لیکن وہ نہیں جلی۔
“یار یہ لائٹ خراب ہے یہ ابھی ہی نہیں جل رہی” شایان نے دروازے سے کچھ فاصلہ اپناتے ہوئے پوچھا۔
“خراب ہو گئی ہے یار، موبائل کی ٹارچ جلا” آمش نے ڈر پر قابو پاتے ہوئے اپنے موبائل کی ٹارچ آن کی اور شایان کو بھی آن کرنے کا کہا۔
کچھ جدو جہد کے کے بعد اسے شایان کے مطابق بستر مل گیا جسے کاندھے پر لئے آمش اسٹور روم سے نکلنے لگا، جوں باہر کی جانب ایک قدم اٹھایا اسے پیر میں کچھ بہت زور کا چبھا جس سے اس کی چیخ نکل گئی۔
” کیا ہوا آمش کیا ہوا” شایان نے ایک دم گھبرا کر لائٹ اس کے پیروں کی طرف کی جس میں سے خون نکل رہا تھا۔
“کچھ چبھ گیا ہے یار” آمش نے کراہتے ہوئے بتایا اور لنگڑاتے ہوئے چلنے کی کوشش کی کے اچانک اس کی نظر قریب پڑے شیشوں پر پڑی۔
ان پر روشنی ڈال کر غور کیا تو اس کے ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
یہ وہی کانچ کا جگ تھا جو چھت پر چائے کے بعد وہ دونوں چھوڑ کر آئے تھے اور اس کے ٹوٹنے کی آواز پر بابا صلاح الدین کو اوپر بھیجا تھا۔
آمش نے فوراً وہ خیال اپنے ذہن سے جھٹکا اور اور جلدی سے لنگڑاتے ہوئے وہاں سے فوراً باہر نکل گیا۔
زخم پر پٹی وغیرہ لگا کر وہ دونوں کچھ ٹائم بعد نیچے موجود تھے۔ رات ساڑے گیارہ بجے کا وقت تھا اور انکا سونے کا معمول ایک بجے سے پہلے کا نہیں تھا۔
ٹی وی لاؤنج کی جگہ پر چھوٹے صوفے ہٹا کر ایک بستر ڈال دیا تھا اور شایان کا صوفے پر سونے کا ارادہ تھا۔
اپنے اطمینان کے لئے دونوں نے سی سی ٹی وی کی کی فوٹیج بھی دیکھ کر اطمینان کر لیا کے جس جگہ دونو ں سو نے جا رہے ہیں وہ کیمرے میں اچھی طرح آرہی ہے۔
” پرفیکٹ ہے یار، کیمرے میں تو کچھ بھی ہوگا وہ نظر آجائے گا، لیکن اتنا کافی نہیں ہے، ہمیں کچھ اور بھی انتظام کرنا چاہئے تاکہ کسی طرح کسی مسئلے سے بچ سکیں۔” شایان نے کیمرہ چیک کرنے کے بعد ایک بار پھر اس جگہ آ کر دیکھا اور کچھ سوچ کر کہا
“کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو، لیکن ہم کیسے بچاؤ کریں اور کیا ایسا کریں؟” آمش نے اس کی بات پر متفق ہوتے ہوئے کہا اور دونوں ایک بار پھر جگہ پر غور کرنے لگے۔
“یار ایسا کرتے ہیں، ہم جہاں سو رہے ہیں اس کے آس پاس کی چیزوں کو ہٹا دیتے ہیں اور اپنے ارد گرد کچھ ایسا رکھیں کہ اس جگہ کوئی قدم رکھے تو پتہ چل جائے۔ کیمرہ اگرچہ ریکارڈ کرے گا لیکن بچاؤ کا بھی تو کچھ ہونا چائیے” شایان نے ایک گہری سوچ کے بعد مشورہ پیش کیا۔
کچھ دیر میں وہ صوفے کا رخ کیمرے کے عین سامنے اور بستر بھی اس کے برابر میں ڈال کے دوبارہ کھڑے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
” ایک کام اور کرتے ہیں۔ ہمارے بستر کے آس پاس جو جگہ ہے ادھر کوئی چیز زمین پر ڈال دیتے جسے چھونے سے آواز پیدا ہو اور ہماری آنکھ کھل سکے۔” آمش نے کمر پر ہاتھ رکھ کر پاس کھڑے شایان سے کہا۔
قریباً ڈیڑھ گھنٹے کی محنت کے بعد انہوں نے اپنی تسلی کے لئے بہت سے انتظامات کر لئے تھے۔
سوفے اور بستر کے فوراً بعد ہی زمین پر چاروں طرف پاؤڈر چھڑک دیا تھا جس سے کسی کے چلنے پر اس کے نشان واضح ہونا ضروری تھا۔
پاؤڈر کے احاطے کے بعد زمین پر پلاسٹک کے شاپنگ بیگز ایک دوسرے سے باندھ کر زمین پر پھیلا دیئے تھے جس پر پیر رکھے بغیر کوئی عام قدم لئے بستر یا صوفے تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔
سب سے آخر میں پتلی رسیوں کےسہارے باندھ کر سٹیل کے برتن اس طور رکھ دیئے کے کوئی ان رسیوں کو چھوئے تو برتن گر جائیں۔
اپنے ان اقدامات پر وہ دونوں ساتھ ہی ہنس بھی رہے تھے لیکن خوف اپنی جگہ برقرار تھا۔
کچھ دیر ٹی وی دیکھنے اور باتیں کرنے کے بعد انہوں نے سونے کا فیصلہ کیا۔ اتنے دنوں کی تھکن اورحواس پر طاری ان دنوں کے واقعات نے آمش کو کئی دنوں سے ٹھیک سے سونے نہیں دیا تھا۔ شایان کی موجودگی کے باعث اس کے خوف میں قدرے کمی آگئی تھی ۔
“چل یار میں تو سوئونگا اب،بہت تھکن محسوس ہو رہی ہے اور کئی دنوں سے نیند بھی ٹھیک سے نہیں ہو پائی۔” آمش نے تھکن سے چور لہجے میں کہا
” اچھا تجھے نیند آجائے گی؟” شایان نے بات کو ہلکے پھلکے انداز میں کہا
lets Try
” آمش نے مسکرا کر کہا” وہ دونوں جانتے تھے کے نیند آنا بہت مشکل ہے۔
کمرے میں لائٹس مکمل آن تھیں۔
دونوں نیند سے بوجھل آنکھیں لئے بیٹھے ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوئے تھے ۔
تھک کر بلا اۤخر آمش صوفے پر لیٹ گیا اور چادر منہ تک اوڑھ لی۔ اسے دیکھ کر شایان نے بھی سونے کا فیصلہ کیا اور روشنی کے باعث چادر اپنے منہ تک اوڑھ لی۔
ابھی ان دونوں کی آنکھ لگے کچھ وقت ہی گزرا تھا کے اچانک آمش کو اپنے احساس ہوا جیسے کسی نے اسے بری طرح جکڑا ہوا ہو، اسے لگا جیسے وہ کسی تنگ جگہ میں پھنسا ہوا ہو اور وہاں اس کا دم گھٹ رہا ہو۔ سینے پر بھاری پن محسوس ہو رہا تھا اور وہ چاہ کر بھی خود کو ہلا نہیں پا رہا تھا۔۔ دل کی دھڑکن تیز اور سانسیں قریب موجود شایان تک جا رہی تھیں۔ یکایک اس نے اپنے پیر کو جھٹکا دیا جو صوفے سے بہت زور سے ٹکرایا تھا۔ اس کی آنکھ کھل گئی اور اس نے اسے خواب جان کر سکون کا سانس لیا۔
چادر چہرے سے ہٹ چکی تھی جو اس نے ایک بار پھر لینے کی غرض سے پکڑی ہی تھی کہ سامنےلگی ٹی وی سکرین پر نظر پڑی ۔
ٹی وی چل رہا تھا اور بلیک خالی سکرین موجود تھی، یہ دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل امڈ آئے، سر اٹھا کر شایان کی جانب دیکھا تو وہ سو رہا تھا ۔ آمش اٹھ کر بیٹھ گیا تھا اور ادھر اُدھر ٹی وی ریموٹ دیکھ رہا تھا، شایان سے کچھ دور بستر پر ہی اسے ٹی وی ریموٹ نظر آگیا جسے دیکھ کر اس نے ایک گہری سانس لی اور یہ سوچ کر کے شایان کے پاس پڑا ہوا ریموٹ کا کائی بٹن اس سے نیند میں دب گیا ہوگا، وہ ریموٹ اٹھا کر آف کرنے لگا۔
ایک لمحے کے لئے اسے محسوس ہوا کے سکرین پر کوئی سنسان سڑک نظر آئی ہو، ساتھ ہی ٹی وی سے کوئی آواز بھی۔ آمش کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی لیکن اگلے ہی لمحے اسے اپنا وہم سمجھ کر وہ ریموٹ رکھ چکا تھا۔ سکرین اب بند تھی۔
آمش نے آس پاس کا مکمل جائزہ لیا اور زمین پر موجود پاؤڈر کو بدستور ویسے ہی پایا۔
ایک بار پھر وہ منہ تک چادر اوڑھ کر لیٹ گیا۔
اب کی بار اسے شایان کے خراٹے کی آواز آرہی تھی جو اسے کچھ پریشان کرنے لگی ۔ اس نے کروٹ بدل کر اپنا رخ صوفے کی پشت کی جانب کر لیا۔
ابھی وہ ہلکی نیند میں گیا ہی تھا کے اسے اپنے پیر کی جانب سے چادر اٹھتی محسوس ہوئی ، اس کا احساس اسے ٹھنڈی ہوا لگنے سے ہوا جو اس ہال میں موجود اے سی کی تھی اور اس سے پہلے چادر کی وجہ سے اپنے پیر پر محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
آمش نے جونہی سر اٹھا کر دیکھا، چادر نیچے ہو گئی اور یہ ایک غیر یقینی چیز تھی، کیونکہ نہ ہی کمرے میں ہوا کا کوئی گزر تھا نہ ہی اے سی کی ہوا سے چادر اٹھ سکتی تھی۔
نیند اب اس کی آنکھوں سے جاتی رہی ۔
ایک بار پھر اسے خوف محسوس ہونے لگا۔
کچھ دیر سونے کی کوشش کر کے وہ ایک بار پھر اٹھا اور زمین پر موجود پاؤڈر کا کھڑے ہو کر معائنہ کرنے لگا۔ لیکن وہ ویسا ہی تھا جیسا انہوں نے زمین پر ڈالا تھا، جس سے اسے تسلی ہوئی اور وہ ایک بار پھر سونے کی کوشش کرنے لگا۔
قریباً آدھا گھنٹا گزرا ہوگا اور وہ پوری طرح نیند میں گیا بھی نہیں تھا کے اسے گھر کے باہر سے گاڑی کے اچانک زوردار بریک لگنے اور ٹائرز سکریچنگ کی آواز آئی، یہ آواز اسے اپنے گھر کے باہر سے ہی آئی تھی اور اتنی تیز تھی کے وہ چونک کر اٹھ گیا۔
“شایان، اٹھ یار۔۔۔ شایان۔ جلدی اٹھ پلیز، مجھے کوئی آواز آئی ہے” وہ شایان کو جگانے لگا جو بے سدھ سو رہا تھا، اچانک ہڑبڑا کر اٹھا۔
” ابے کیا ہوا آمش ” وہ گڑبڑا کر اپنا سر کھجاتے ہوئے پوچھنے لگا
” یار کوئی آواز آئی ہے باہر سے گاڑی کی چل یار دیکھتے ہیں، مجھے لگ رہا ہے ہمارے گھر کے باہر سے آئی ہے ” آمش نے پریشانی کے عالم میں کہا
“سو جا یار کچھ نہیں ہوا” شایان جو گہری نیند سے جاگا تھا کہہ کر دوبارہ لیٹ گیا
” چل یار پلیز شایان کچھ تو ہوا ہے۔۔ دیکھتے ہیں چل کر گاڑی کو۔۔ اٹھ پلیز” آمش اس کی منت کر رہا تھا لیکن اس بار شایان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
آمش خود کوجھوٹی تسلی دیتے ہوئے دوبارہ لیٹ گیا، باہر اکیلے جانے کی ہمت نہ تھی۔
اسے ڈر محسوس ہونے لگا جس کی وجہ سے اس نے منہ تک چادر ایک بار پھر اوڑھ لی تھی۔
اس نے محسوس کیا کے باہر کتوں کی بھونکے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس سے پہلے تک یہ آواز اکا دکا کبھی آرہی تھی لیکن اب وہ آوازیں تیز اور مسلسل آرہی تھیں۔
ایک انجانا خوف اسے کھائے جا رہا تھا۔
آمش ایک بار پھر صوفے پر اٹھ کے بیٹھ گیا اور کمرے میں نگاہ دوڑانے لگا۔
خوف اسے کھائے جا رہا تھا لیکن اس کے پاس کوئی چارہ نا تھا سوائے واپس سونے کے۔
وہ ایک بار پھر لیٹ گیا۔
قریباً 10 منٹ گزرے ہونگے کے اسے اپنے پیر پر کسی کے چھونے کا احساس ہوا، اس نے چونک کر اپنا پیر کھینچ لیا اور اس جانب دیکھنے کو تھا کہ کسی نے اس کا پیر زور سے پکڑ کر اسے شایان کی جانب کھینچا، وہ صوفے سے لڑھک کر سیدھا شایان کے اوپر گرا اور بدحواسی دیکھنے لگا۔
یکایک اسے دوسرا جھٹکا لگا اور اسے پیر سے اتنی زور سے کھینچا گیا کہ وہ شایان کے اوپر سے ہوتا ہوا زمین پر رگڑتا ہوا جانے لگا۔
“شایان بچا مجھے شایانن ن ن ن، روک مجھے شایان، بچا لے ۔۔ شایان۔۔ ” وہ زور زور سے چلا کر شایان کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اس سے پہلے کے شایان اس معاملے کو سمجھ پاتا آمش کھنچتا ہوا اس کی پہنچ سے دور نکل چکا تھا۔
شایان اس کے گرنے سے گڑبڑا کر اٹھ گیا تھا لیکن سنبھل نہیں پایا تھا ۔
آمش کو وہ طاقت بری طرح کھینچتے ہوئے لے جا رہی تھی، وہ زمین پر موجود پاؤڈر سے گزرتا ہوا شاپنگ بیگز پر اور اس کے بعد سیدھا دروازے کی طرف کھچتا چلا جا رہا تھا۔
حیرت انگیز طور پر اس سے زمین پر موجود پاؤڈر اور شاپنگ بیگ بکھر گئے تھے جبکے آخر میں موجود رسی جو زمین سے اوپر تھی ہلی بھی نہیں، نہ ہی گھسیٹنے میں آمش کا ہاتھ بڑھ کر اس تک پہنچا تھا۔
کمرے کا دروازہ خود بہ خود کھل گیا تھا اور آمش دروازے سے باہر کی طرف بے دردی سے کھنچے جا رہا تھا۔
وہ مسلسل چلا رہا تھا اور اسی دورا ن شایان اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگا
“شایان بچا لے مجھے پلیز شایان۔۔ شایان۔” وہ بری طرح چلا رہا تھا اور شایان اس کا نام لیتا ہوا اس کی طرف بھاگ رہا تھا۔
آمش اپنی ہر ممکن کوشش کے باوجود خود کو نہیں روک پا رہا تھا ۔
گھر سے نکل کر داخلی راستے سے ہوتا ہوا وہ باہر کی طرف کھنچ رہا تھا ۔ اس دل لرزا دینے والی چیخیں دور دور تک سنائی دے رہی ہونگی۔
شایان نے کمرے سے نکل کر تیزی سے بھاگ کر آمش کا ہاتھ بلاآخر تھام لیا اور بیرونی دروازے سے کچھ فاصلے پر اسے روکنے میں کامیاب ہو گیا۔
آمش کے پیر سے گرفت اب ڈھیلی ہو چکی تھی اور وہ خود اٹھنے کی کوشش کرنے لگا، ساتھ ہی شایان نے اسے سینے اور کمر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔
رات کے ساڑھے چار کا وقت ہو رہا تھا اور سناٹے نے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔
اس سب کے دوران کتوں کی بھونکنے کی آوازیں ایک بار پھر بہت بڑھ گئی تھیں۔
شایان پلٹ پلٹ کر پیچھے دیکھتا اور اسے سہارا دیتا ہوا گھر میں جلدی سے داخل ہوا اور اسے صوفے پر لا کر بٹھا دیا۔ ساتھ ہی دروازہ دوبارہ بند کر دیا۔
اس سب کے دوران شایان کے ٹکرانے سے وہ برتن اپنی جگہ سے نیچے گرے ہوئے تھے ۔
آمش کا جسم اور چہرہ زخمی ہو چکا تھا اور جگہ جگہ سے رگڑ کے باعث خون بہہ رہا تھا۔
“چل شایان ۔۔۔ چل ۔۔ یہاں سے چل یار۔۔” آمش نے بمشکل بولنے کی کوشش کی لیکن اس کی حالت اسے اجازت نہیں دے رہی تھی۔
کچھ دیر سانس بحال کر کے دونوں نے اوپر کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا، آمش شایان کی مدد سے بمشکل چلتا ہوا اوپر تھا آیا اور شایان نے اسے بیڈ پر لٹا دیا۔
آمش کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے۔ اس تمام واقعے میں شایان نے پوری ہمت سے کام لیا اور شایان کا بھرپور ساتھ دیا ۔
دونوں صبح کا انتظار کر رہے تھے تاکہ کسی ہسپتال جا سکیں ، شایان نے ہلکی پھلکی فرسٹ ایڈ دے دی تھی جس سے آمش اب قدرے بہتر محسوس کر رہا تھا۔
صبح سات بجے تک وہ دونوں وہیں بیٹھے رہے اور جب مناسب روشنی ہونے کے بعد ہاسپٹل جانے کا فیصلہ کیا۔
شایان کپڑے چینج کر کے تیار ہو چکا تھا جبکے آمش ابھی تک بیڈ پر ہی لیٹا ہوا تھا۔
” چل یار آمش ہمت کر تھوڑی، چینج کر پھر چلتے ہیں” شایان نے کھڑکی سے باہر جھانک کر کہا جہاں سے اب روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی ۔
آمش کہنیوں، گھٹنوں پر تکلیف کے باعث جو اسے کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیوں پر رگڑنے اور ٹکرانے سے ہو رہی تھی ، بمشکل چل پا رہا تھا۔
واش روم کا دروازہ لاک کئے بنا ء ہی وہ بند کر کے اندر گیا تھا۔
حاجت سے فارغ ہو کر کپڑے بدل کر وہ اب باتھ روم میں موجود آئینہ دیکھ رہا تھا ۔
اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود وہ زندہ تھا جس پر وہ دل ہی دل میں شکر کر رہا تھا۔
چہرہ کئی جگہ سے چھل گیا تھا اور زخم کے نشان واضح تھے۔ وہ خود کو بغور دیکھ رہا تھا۔
چہرہ آئینے کے قریب کر کے اس میں کبھی اپنے ماتھے اور آنکھوں کے گرد زخم دیکھتا تو کبھی اپنی کہنیوں پر لگے زخم اور کبھی شرٹ اوپر کر کے کمر پر دیکھنے کی کوشش کرتا۔
اسی اثناء میں اسے ایسا محسوس ہوا جیسے باتھ روم میں کوئی اور بھی موجود ہو۔
وہ ایک لمحے کے لئے سوچنے لگا، لیکن پھر پلٹ کر دروازہ چیک کیا جو کھلا تھا۔
وہ ایک بار پھر آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ رہا تھا جو چوٹوں کے علاوہ تھکن اور نیند کے پورے نہ ہونے سے پر مزدہ معلوم ہو رہا تھا۔
اس نے اپنے چہرے پر پانی ڈالا اور ایک زخم اسے کچھ گہرا معلوم ہونے لگا۔ پانی اور ہاتھ لگانے پر اس سے ہلکا سا خون نکلنے لگا ۔
آمش نے ہاتھ لگا کر چیک کیا اور جونہی اپنے ہاتھ پر نظر پڑی وہ حیران رہ گیا۔
اس کا ہاتھ خون سے بھرا ہوا تھا۔
آمش کے ہوش یہ دیکھ کر اڑ گئے۔
آئینے میں دیکھا تو وہاں معمولی سا خون محض اسی جگہ تک محدود تھا۔
آمش نے اپنا ہاتھ ایک بار پھر دیکھا اور اس کا دہل کر رہ گیا ، اس کا ہاتھ خون سے بھرا ہوا تھا۔
ایک بار پھر آئینے میں نظر دوڑائی اور اسے اپنا چہرہ کچھ غیر معمولی لگنے لگا۔
آمش نے قریب ہو کر دوبارہ خود کو دیکھا۔۔
آئینے میں موجود اس کا عکس اب ایک جگہ رک گیا تھا۔
وہ نا سمجھی کی کیفیت میں دوبارہ پیچھے ہٹا ، اور دوبارہ چہرہ قریب کیا مگر اس کا عکس ایک جگہ تھم کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
آمش نے مزید غور کرنا شروع کیا اور اپنا چہرہ سامنے دیکھتے ہوئے ادھر ادھر ہلایا لیکن آئینے میں موجود وہ عکس اس کا کچھ دیر پہلے کا تھا جب وہ ایک مناسب دوری سے خود کو دیکھ رہا تھا۔ بے ساختہ اس کی نظر اپنے ہاتھ پر پڑی اور اس پر خون اب موجود نہ تھا۔
ایک بار پھر اس نے نظر اٹھا کر آئینہ دیکھا۔
اس کا عکس اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔
===========================================
جاری ہے

Part 1, Part 2, Part 3, Part 4, Part 5

Check Also

Chaar Raten Novel – Part 5

چار راتیں قسط نمبر : 5 بقلم : فیضان احمد آمش ڈرتے ڈرتے سیڑھیوں کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *