Chaar Raten Novel – Part 4

چار راتیں

قسط نمبر : 4
‎بقلم : فیضان احمد
‎مغرب کا وقت قریب تھا اور روشنی مدھم ہوتی جا رہی تھی، آمش اپنے اندازے کے مطابق شایان کے ساتھ اس جگہ پہنچ چکا تھا ۔
‎”یار میرا خیال ہے یہی جگہ ہو سکتی ہے، میری گاڑی نے جب انہیں ہٹ کیا تھا وہ لوگ اس طرف جا کر گرے تھے” آمش نے ہاتھ سے روڈ سے تھوڑا اندر کی طرف اشارہ کیا۔
‎آمش کی بتائی ہوئی جگہ کے قریب پہنچ کر وہ دونوں جگہ کا معائنہ کرنے لگے لیکن انہیں وہاں ایسی کوئی چیز یا سراغ نظر نہیں آرہا تھا۔ انہیں وہاں خون کے دھبے نظر آنے کی امید تھی جس کی کوشش میں آس پاس کی جگہوں کو بہت قریب سے اور دھیان سے ٹٹول رہے تھے۔
‎گھنے درخت اور جھاڑیوں کی موجود گی میں اس جگہ پر ان کا چلنا کافی دشوار تھا۔ یہ روڈ کے کنارے ایسی جگہ تھی جہاں کچی زمین اور جھاڑیاں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔
‎”یار شایان ادھر تو کچھ بھی نہیں ہے، چل یار گھر چلتے ہیں”آمش نے تیز دھڑکتے دل کے ساتھ کہا اور شایان کی طرف بے چارگی سے دیکھنے لگا۔
‎”رک تو جا یار، صحیح سے دیکھ تو لینے دے شاید کوئی نشان، یہ خون کچھ تو نظر آئے گا، اس جگہ سے لوگوں کا گزر مشکل ہی ہوتا ہو، تو پھر وہ دونوں ایکسیڈنٹ کے بعد یہاں سے کیسے اور کہاں گئے؟” شایان نے پر اسرارانداز سوال کیا۔
‎”یار تو چھوڑ یہ انویسٹی گیشن پلیز۔ مجھے ویسے ہی ڈر لگ رہا ہے، چل یار واپس چلتے ہیں” آمش نے بدستور اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
‎وہ دونوں اس تلاش میں روڈ سے کافی اندر کی طرف آچکے تھے جہاں درختوں کے سائے کی وجہ سے روشنی مزید کم ہو گئی تھی۔
‎شایان کے لئے یہ سب ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھا کیوں کے وہ بہت نڈر قسم کا انسان تھا جبکہ آمش جس کے ساتھ یہ سب ہوتا آرہا تھا ، انتہائی خوف کے زیر اثر تھا۔
‎”یار دیکھ، تیرے مطابق گاڑی نے سامنے روڈ پر اُس جگہ انہیں ہٹ کیا تھا اور وہ دونوں ٹکرا کر۔۔” شایان آمش کو ہاتھ کے اشارے سے جگہ بتا کر صحیح جگہ کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
‎آمش ایک دم جھٹکے سے چونکا ، اور پلٹ کر پیچھے ایک جانب دیکھنے لگا۔
‎آمش کی اس حرکت پر شایان اپنی بات کہتے کہتے ایک دم رک گیا تحیر سے آمش کی نظر کا تعاقب کرنے لگا۔
‎”یار تو نے آواز سنی؟” آمش نے لرزتی آواز اور کپکپاتے لبوں کے ساتھ پوچھا اور شایان کے بلکل قریب ہو کے اس سے جڑ کے کھڑا ہو گیا۔
‎”یار چل یار یہاں سے میرے دل ڈوب رہا ہے، پلیز شایان چل یار یہاں سے” آمش نے اسے کھینچنے کی کوشش کی۔
‎”ابے ہوا کیا اچانک؟ کونسی آواز آئی ہے” شایان نے اسے روکتے ہوئے اچھنبے سے پوچھا۔
‎”مجھے ایسا لگا جیسے روڈ کی طرف سے کوئی آواز آئی ہے اور پھر سامنے اس طرف کچھ آکر گرا ہو” آمش نے اس جگہ اشارہ کرتے ہوئے کہاں جہاں وہ دیکھ رہا تھا
‎شایان اس کا ہاتھ پکڑ کر اس طرف بڑھنے لگا۔ آمش پیچھے پیچھے ڈرا ہوا کپکپاتے پیروں کے ساتھ آرہا تھا۔
‎اندھیرا بڑھ چکا تھا اس جانب درخت کم اور جنگلی جھاڑیاں بہت زیادہ تھیں۔
‎دونوں نے اپنے موبائل کی ٹارچ کھول لیں اور دھیرے دھیرے جھاڑیوں سے بچتے بچاتے اس جگہ سے قریب ہوتے جا رہے تھے۔
‎اس جگہ کے قریب پہنچ کر جو منظر انہوں نے دیکھا اس منظر نے دونوں کے ہوش اڑا دیئے ، دونوں نے حواس باختہ ہو کر ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ آمش اور شایان کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہو گیا۔آواز حلق میں ہی دب کر رہ گئی اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے پورے بدن سے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیا ہو۔
‎سامنے ہی وہ بچی اور عورت جو غالباً ماں اور بیٹی تھے بری حالت میں جھاڑیوں کے بیچ پڑی ہوئی تھیں، ان کے جسم سے خون ایسے بہہ رہا تھا کہ مانو ابھی ابھی ایکسیڈنٹ ہوا ہو، پیر گھٹنوں سے مڑے ہوئے تھے گویا کے ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہوں۔
‎دونوں کا چہرہ اِن کی مخالف سمت مڑا ہوا تھا ۔آمش کی حالت یہ دیکھ کر پتلی ہو گئی۔
‎شایان نے ہمت کر کے انہیں ہلا کر دیکھنا چاہا، جیسے ہی اس نے ہاتھ ان کی طرف بڑھایا ، اچانک ہی دونوں لاشوں نے چہرہ گھما کر ان کی سمت کر لیا اور آنکھیں کھولیں جو بلکل سفید تھیں گویا ان میں زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں تھی۔
‎اور وہ دونوں آمش کی طرف دیکھ کر کہنے لگیں “تم چاہتے تو بچا سکتے تھے”۔ یہ آواز اتنی دہشت ناک تھی کے سناٹے کو چیر تی ہوئی کانوں میں داخل ہوئی تھی ۔
‎یہ منظر دیکھ کر دونوں کا کلیجہ حلق کو آگیا تھا۔
‎وہ دونوں یک دم مڑ کر واپس روڈ کی جانب سر پٹ دوڑے،آمش کو محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی اس کا پیر پکڑ کر پیچھے کو کھینچ رہا ہو، وہ اپنی پوری قوت اور رفتا ر سے بھاگنے کی کوشش کے باوجود بھی شایان سے پیچھے ہوتا جا رہا تھا، راستے میں جھاڑیوں میں الجھتے پیر ، چبھتے کانٹے اور کپڑوں کو چھلنی کرتی ہوئ جھاڑیاں انہیں ایک پل کے لئے محسوس نہیں ہوئی ۔
‎بل آخر شایان کے چند لمحوں بعد آمش بھی گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا، شایان گاڑی سٹارٹ کئے ہوئے تھا۔
‎دونوں کے پیر کافی حد تک زخمی ہو چکے تھے۔
‎سارے راستے دونوں وقتاً فوقتاً بیک مرر میں پیچھے کی جانے دیکھتے رہے ۔
‎گھر سے اس جگہ کا فاصلہ کچھ دیر پہلے انہوں نے 20 منٹ میں طے کیا تھا لیکن شایان کی گاڑی اب کی بار 12 منٹ میں آمش کے گھر کے باہر موجود تھی ۔راستے بھر وہ دونوں نا ایک لفظ کہہ سکے اورنا ہی کوئی بات کی۔
‎”یار میں تجھ سے فون پر بات کرتا ہوں” آمش کے گاڑی سے اترتے ہی شایان صرف اتنا کہ کر گاڑی زن سے لے اڑا ۔
‎آمش کچن میں داخل ہوا جہاں ساشہ پہلے سے کچھ کام میں مصروف تھی، وہ بمشکل چل پا رہا تھا
‎”ساشہ” آمش نے گھبرائی ہوئی دھیمی سی آواز میں ساشہ کو آواز لگائی جو چولھے پر کچھ پکا رہی تھی اور پیٹھ آمش کی طرف تھی۔
‎آمش لڑکھڑاتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا اور نظریں بار بار اپنے زخمی پیروں کی طرف گر رہی تھیں۔
‎”ساشہ ، یار ادھر بات سنو” وہ کہتا ہوا ساشہ کے قریب پہنچا ہی تھا کے اسے ایک بار پھر وہی لہجہ اور آواز اپنی پشت سے سنائی دی
‎”تم چاہتے تو بچا سکتے تھے”
‎وہ گھبرا کر ایک دم پیچھے پلٹا اور پیروں پر زخم کی وجہ سے اپنا بیلنس برقرار نہ رکھ سکا اور ساشہ سے ٹکرا تا ہوا نیچے گر کر بیٹھ گیا۔
‎ساشہ نے فوراً پلٹ کر اسے بمشکل سنبھالا اور اس کی ایسی حالت دیکھ کر سکتہ میں آگئی۔
‎”آمش یہ کیا ہوا آمش؟ یہ کیا ہے سب” اس کی پیروں سے گھٹنوں تک جگہ جگہ چھلا ہوا تھا اور زخموں سے خون بہہ رہا تھا جسے دیکھ کر ساشہ نے پریشانی میں پوچھا۔
‎”روم میں چلو” آمش نے اتنا کہ کر آنکھیں بند کر لیں۔
‎ساشہ نے بمشکل اسے سہارا دے کر کمرے تک پہنچایا اور بیڈ پر لٹا دیا۔
‎”آپ یہاں لیٹیں ، میں فرسٹ ایڈ باکس لے کر آتی ہوں” ساشہ نے آمش کو بیڈ پر ٹھیک سے لٹاکر جاتے ہوئے کہا۔
‎”نہیں ، ساشہ نہیں، رکو، میری بات سنو” آمش نے گھبرا کر تیز آواز میں کہا جس پر ساشہ کے قدم حیرت سے وہیں رک گئے۔
‎”ارے کیا ہوا؟ میں کچھ لے کر آتی ہوں آپ کے زخم صاف کرنے، پھر آپ چینج کر لیں” ساشہ نے فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
‎”وہ سامنے تولیہ ہے نا، اسے گیلا کر لو یہیں واش روم سے اور اسی سے صاف کر دو” آمش نے حکم دیتے ہوئے کمرے میں موجود تولیئے کی طرف اشارہ کیا۔
‎ساشہ کچھ نا سمجھتے ہوئے تولیہ لے کر اسے گیلا کرنے چلی گئی، آمش کی نظر مسلسل اس پر ٹکی ہوئی تھی جو باتھ روم میں گھسی تھی، اور چند لمحوں میں گیلا تولیہ لے کر واپس آئی۔
‎آمش بغور ساشہ کو دیکھ رہا تھا اور اس کا ہر اندازنوٹ کر رہا تھا
‎اس کے ذہن میں وہی منظر جو وہ دیکھ کر آیا تھا اور وہی آواز جو ابھی کچن میں دوسری بار سنی تھی، گونج رہی تھی۔
‎ساشہ سے بھی اسے ڈر محسوس ہونے لگا تھا، لیکن یہ بات اس نے ساشہ کے سامنے عیاں نہیں ہونے دی۔
‎ساشہ پینٹ کے پائینچے اوپر کر کے تولیئے سے خون صاف کر رہی تھی،اس کا چہرہ نیچے کو جھکا ہوا تھا اور ماتھے پر لہراتے بال چہرے کو کسی حد تک ڈھانپے ہوئے تھے۔
‎آمش کو ایک انجانا سا خوف تھا کے کہیں ساشہ پھر سے کوئی گہرا زخم نہ مار دے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ساشہ بہت نرمی اور ارام سے اچھی طرح دونوں پیروں سے خون صاف کر رہی تھی۔
‎”آمش یہ ہوا کیا ہے؟ آپ شایان کے ساتھ کہاں گئے تھے؟” ساشہ نے خاموشی کی دیوار گرائی
‎”ساشہ میں تمہیں سب کچھ بتاؤنگا لیکن مجھے اس سے پہلے کچھ چیزیں جاننی ہیں، جن کے انتظار میں ہوں، پلیز تم تب تک اس بارے میں بات نہیں کروگی” آمش نے ساشہ کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا
‎”لیکن ۔۔ آمش میں آپ میں کچھ دن سے عجیب تبدیلی دیکھ رہی ہوں، پلیز مجھے بتائیں آخر کیا بات ہے، آپ کن مسئلوں میں پھنسے ہوئے ہیں، میں اپنی ہر ممکن کوشش کر کے آپ کو خوش رکھنا چاہتی ہوں اور اتنے دن سے آپ کے بدلے ہوئے رویے کو دیکھ رہی ہوں لیکن کچھ نہیں کہہ رہی، لیکن اب روز بروز آپ کے کہیں نا کہیں زخم اور نڈھال نظر آتے ہیں، یہ سب کیا ہے، آپ ٹھیک تو ہیں نہ؟” ساشہ کو جیسے دل کی بات کہنے کا موقع ملا تھا وہ پھٹ پڑی اور اپنی پریشانی ظاہر کر ڈالی۔

‎” میں ٹھیک ہو ں ساشہ بس تھوڑا ایک مسئلہ چل رہا ہے، جو میں تم سے ضرور شیئر کرونگا لیکن ابھی نہیں، پلیز۔۔۔۔” آمش کی سمجھانے پر ساشہ مان گئی اور دھیمی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر امڈ آئی ۔
‎”چلیں آپ چینج کر لیں یہ کپڑےمیں کھانا تیار کر لوں، چولھا بند کر کے آئی تھی” ساشہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
‎پچھلے کئی دنوں سے آمش نوٹ کر رہا تھا کے ساشہ چپ چپ ہے اور اس کی ٹیبل سے گرنے کے باعث ناک پر چوٹ پر بھی کوئی خاص حیرت ظاہر نہیں کی، نہ اس کی پچھلے کچھ دنوں کی باتوں پر حیرت کا اظہار کیا، اور پھر باتھ روم میں ہونے والا واقعہ۔۔۔۔ کیا یہ واقعی ساشہ ہی ہے۔
‎اب اسے یقین ہو گیا تھا کے یہ اس کی بیوی ساشہ ہی ہے جو اس کا خیال رکھنے کی غرض سے اور اسے ذہنی الجھن سے دور رکھنے کے لئے یہ سب باتیں اگنور کر رہی تھی۔
‎”مگر باتھ روم میں جس نے میری ناک سے خون صاف کیا وہ۔۔۔۔۔” آمش یہ سوچ کر دہل کر رہ گیا، اس کے جسم میں ایک ڈر کی لہر دوڑ گئی۔ وہ اٹھ کر کپڑے چینج کرنے چلا گیا۔
‎”چلیں آج چھت پر چائے پیتے ہیں اور واک کرتے ہیں،”ساشہ نے کھانے کی میز پر آمش کو خاموش دیکھ کر سلسلہ کلام جوڑا۔
‎”نہیں یار میرا موڈ نہیں ہےآج، پھر کسی دن” آمش نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور دوبارہ اپنے کھانے میں مصروف ہو گیا۔
‎”چلیں نہ کافی دن ہو گئے، ہم نے چھت پر چائے نہیں پی، اور آپ کا ڈپریشن بھی دور ہوگا” ساشہ نے اب اسرار کیا جس پر آمش منع نہیں کر سکا اور گردن ہلا کر ہامی بھر لی۔
‎آمش کھانے سے فارغ ہو کر چھت پر جا چکا تھا اور ساشہ کچن میں چائے بنانے میں مصروف تھی۔ آمش کی عادت تھی کے وہ کھانے کے فوراً بعد چلا جاتا تھا اور جب تک ساشہ نہ آجائے وہ واک کرتا اور موبائل استعمال کرتا تھا، پھر ساشہ کے آنے پر دونوں ساتھ چائے پیتے اور واک کرتے ہوئے باتیں کرتے۔
‎آمش کو آج نہ جانے کیسے کیسے خیالات آرہے تھے اور اپنے ہی گھر کی چھت پر خوف محسوس ہو رہا تھا۔ گھر کی چھت بہت کشادہ تھی جس میں ایک طرف کئی قسم کے گملے رکھے ہوئے تھے اور خوشبودار پھول بھی۔
‎چار سو ں اندھیرے کا راج تھا جبکہ اکا دکا گھروں کی لائٹس آن نظر آرہی تھیں۔ آمش بجائے موبائل استعمال کرنے کے آج بے چینی سے ساشہ کا انتظار کر رہا تھا اور اس کی نظریں ایک انجان خوف کو سموئے ہوئے آس پاس ہر جگہ بھٹک رہی تھیں۔
‎کچھ دیر میں ساشہ ہاتھ میں ٹرے لئے ہوئے سیڑھیوں سے اوپر آتی نظر آئی جس پر آمش نے سکون کا سانس لیا اور کرسی لے کر بیٹھ گیا۔
‎وہ دونوں چائے پینے میں مصروف ہو گئے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی۔
‎چلیں واک کرتے ہیں، ساشہ نے کچھ دیر میں واک کا ارادہ ظاہر کیا جس پر دونوں اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر واک کرنے لگے، وہ دونوں کرسیوں پر ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے ہوئے تھے جب کہ بیچ میں ایک چھوٹی ٹیبل موجود تھی اور اس پر پانی کا جگ اور گلاس۔
‎”ساشہ ایک بات بتاؤ مجھے” آمش نے ایک نقطے پر نگاہ جمائے ہوئے چائے کا گھونٹ بھر کر کہا
‎”جی پوچھیں” وہ جو آمش کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چھت پر ایک جانب سے دوسری جانب واک کر رہی تھی سوالیہ نظریں اٹھاتے ہوئے پوچھا
‎”اس روز جب میری ناک سے خون بہہ رہا تھا اور تم میرے لئے دوا لینے گئی تھیں ، تو تمہیں اتنی دیر کیوں لگ گئی تھی آتے ہوئے” آمش کے قدم اپنے سوال کے ساتھ رک گئے تھے اور وہ ساشہ کی طرف منہ کر کے متوجہ ہو گیا تھا
‎”ارے ہاں، میں جب نیچے فرسٹ ایڈ باکس لینے گئی تو وہ اپنی جگہ پر تھا ہی نہیں مجھے ڈھونڈنے میں بہت ٹائم لگ گیا تھا، پھر وہ مجھے کافی دیر بعد ڈائننگ ٹیبل پر سامنے ہی رکھا ہوا نظر آیا” ساشہ نے تسلی جواب دیا جس پر آمش “ہمم ” کہ کر رہ گیا۔
‎آمش اپنی بیوی کی طرف سے تسلی اور دوسری طرف سے خوف دونوں کے سائے میں تھا جس سے وہ عجیب کشمکش کا شکار تھا، کبھی تو وہ بہت ڈرا ہوا اور کبھی بلکل پر سکون ہو جاتا تھا۔ اسے یقین تھا کے اس کی بیوی اس کے ساتھ موجود ہے اور باتھ روم میں جسے اس نے گلے لگایا تھا وہ اس کی بیوی نہیں تھی۔
‎”کیا ہوا آمش ؟ کیا سوچ رہے ہیں” ساشہ کے سوال پر وہ ایک دم سوچوں سے باہر آیا اور ذہن جھٹک کر ساشہ کی جانب دیکھا۔ نہ جانے کیوں اسے چاند کی مدھم سی چمک اپنی بیوی کے چہرے پر پڑتے ہوئے کچھ خوف سا محسوس ہو رہا تھا۔
‎”کچھ نہیں یار۔۔ بس۔۔۔” وہ اتنا کہہ کر چپ ہو گیا۔
‎ساشہ بھی اس کی خاموشی پر کچھ نہ کہہ سکی اور آمش کے ہمراہ ایک بار پھر قدم اٹھانے لگی۔
‎آمش ، ساشہ کے ہمراہ چھت کے ایک کونے پر تھا ، جب وہ پلٹ کر دوسری جانب کو چلنے لگا اسے محسوس ہوا ، اس کی کرسی اب اس جگہ نہیں ہے جہاں وہ پچھلے 15 منٹ سے واک کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
‎پہلے پہل اسے اپنا وہم محسوس ہوا کیونکہ اس نے واک کرتے ہوئے کرسیوں کی پوزیشن پر کچھ خاص غور نہیں کیا تھا لیکن اب اس نے غور کرنا شروع کیا تو اسے یقین ہو گیا ۔
‎”اٹھتے وقت میں ساشہ کے سامنے بیٹھا تھا اور میری کرسی بلکل سامنے تھی اب ٹیبل کی دوسری سائڈ پر۔۔۔۔۔” آمش نے خود سے سوال کیا ، اس کا ذہن الجھ کر رہ گیا تھا۔ وہ ایک بار پھر چھت کے بیچ میں موجود ان کرسی ٹیبل کے پاس سے گزر کر دوسری جانب گیا تھا، کے اب کی بار اسے کرسی سرکنے کی آواز آئی، پلٹ کر دیکھا تھا وہ کرسی پہلے والی جگہ پر تھی جہاں اس کے اندازے کے مطابق ہونی چاہئے تھی۔
‎”ساشہ، چلو نیچے” وہ ساشہ کا ہاتھ پکڑکر تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھا اور سیڑھیاں اترنے لگا
‎”کیا ہوا آمش؟” ساشہ اس کے اچانک بدلتے ہوئے رویے پر حیران و پریشان رہ گئی۔ آمش بغیر کسی جواب کے اسکا ہاتھ تھامے تیزی سے نیچے کی طرف اتر رہا تھا۔
‎ابھی مشکل سے چار پانچ سیڑھیاں ہی اترے تھے کے ایک زور دار آواز آئی جس کے بعد کرسیوں کے گرنے اور کانچ کے جگ کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔
‎آمش نے اپنی رفتار تیز کر دی اور وہ دونوں قریباً بھاگ کر نیچے فلور پر پہنچے، آمش اسے لیکر سیدھا کمرے میں گھس گیا۔
‎”آمش ، آمش ہوا کیا ہے آخر، آپ کیوں بھاگے ہیں چھت سے”ساشہ کی حیرت تمام بلندیوں کو چھو رہی تھی ۔
‎آمش نے کمرے میں موجود انٹر کام اٹھایا اور گھر کے چوکیدار کو اوپر آنے کا حکم دیا۔
‎آمش کی سانس اکھڑی ہوئی تھی اور وہ ساشہ کی کسی بات کا جواب دیئے بغیر بے چینی سے کمرے میں چکر لگا نے لگا۔
‎کمرے کا دروازہ بجا تھا جب اس کے قدم ایک دم رکے۔ “کون” اندر سے ہی پوچھا۔
‎”صلاح الدین ہوں صاحب آپ نے بلایا تھا” باہر سے آواز آئی۔
‎آمش نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر تسلی کی کے باہر اس کا چوکیدار ہی ہے۔
‎”بابا اوپر سے ابھی کچھ گرنے اور ٹوٹنے کی آواز آئی ہے، ذرا چھت پر جا کر دیکھو کیا گرا ہے۔”
‎آمش نے اسے حکم دے کر دروازہ واپس بند کر دیا ۔
‎”آمش کیا ہوا؟ کچھ تو بتائیں، کیسی آواز آئی ہے آپ کو ؟ پلیز اب بہت ہو گیا ، اب مجھے بتائیں آخر چل کیا رہا ہے یہ سب” ساشہ نے پریشانی میں غصہ اپناتے ہوئے پوچھا۔
‎”رک جاؤ” آمش نے رعب دار آواز میں جواب دیا اور انگلی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
‎موبائل کی گھنٹی بجی اور آمش نے رک کر چارجنگ پر لگا موبائل نکال کر کان سے لگایا۔
‎دوسری طرف شایان لائن پر تھا۔
‎”آمش تجھے یاد ہے نہ کیا کہا تھا میں نے؟ کیا کرنے ہے آج تو نے” شایان کی آواز آئی
‎”ہاں یار یاد تو ہے لیکن میں ساشہ کو ان سب چیزوں کی کیا وجہ بتاؤں گا، اسے میں نے ابھی تک کچھ نہیں بتایا” آمش نے ٹہلتے ہوئے کمرے سے باہر نکل کر دھیمی آواز میں جواب دیا۔
‎”یار تو بول دے کچھ بھی اسے سنبھال لے کسی طرح بھی لیکن آج یہ کر کے ضرور دیکھ ، میں نے جب سے اس لڑکی اور بچی کو دیکھا ہے، یقین کر میری حالت ابتر ہو گئی ہے، اس کی وہ آواز میرے کانوں میں رہ رہ کر گونج رہی ہے ” شایان نے اپنے خوف کا اظہار کیا جس پر آمش کے بھی پسینے چھوٹنے لگے۔
‎”بول رہا تھا تجھے میں، مت چل اس طرف تو نہیں مانا، اور سوچ میں کیسے یہ سب جھیل رہا ہوں۔۔ میری کیا حالت ہوگی، ابھی ابھی پھر ایک مسئلہ ہوا ہے” آمش نے موقع پاتے ہی اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور سارا الزام شایان کی طرف تھونپ دیا۔
‎”کیا مطلب؟ اب کیا ہوا؟” شایان نے چونکتے ہوئے سوال کیا
‎”کچھ نہیں بعد میں بتاؤنگا” آمش بے چینی سے کمرے کے باہر ٹہلتے ہوئے بابا کے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا ، اس کی نظریں بار بار اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف تھیں۔
‎””اچھا یار بات سن، یہ بتا ہم نے جو لڑکی اور بچی جھاڑیوں میں دیکھی تھیں یہ وہی تھی نا؟ شایان نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا
‎”بھائی 100 فیصد وہی دونوں تھیں ، اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں، ہم نے جنہیں دیکھا ہے وہ ۔۔۔۔” آمش اتنا کہ کر چپ ہو گیا
‎”ہاں یار تو صحیح کہ رہا ہے، اس نے پوری گردن گھما کر کہا تھا “تم چاہتے تو بچا سکتے تھے” اور یہ کسی انسان کے لئے ممکن نہیں، نہ وہ دہشتناک آواز کسی انسان کی تھی، دوسری بات وہ بلکل ایسے لگ رہی تھیں جیسے ابھی ابھی ایکسیڈنٹ ہوا ہو۔۔ یار کیسے ہو سکتا ہے یہ۔۔۔ اتنے دن پہلے ایکسیڈنٹ اور وہ دونوں اب تک وہیں اسی حالت میں۔۔۔” شایان نے اپنا شک ظاہر کیا اور دونوں طرف ایک لمحے کے لئے خاموشی چھا گئی۔
‎”چل یار میں فون رکھ رہا ہوں، تو آج ضرور کیمرے کی موجودگی میں سونا اور جیسا میں نے بتایا ہے وہ سب ضرور کرنا۔”
‎”چل ٹھیک ہے یار، دعا کر کچھ الٹا سیدھا نہ ہو” آمش نے التجائیہ لہجے میں کہ کر فون بند کر دیا
‎اس کی نظریں سیڑھیوں کی جانب لگی ہوئی تھیں جہاں سے اچانک ایک چیخ سنائی دی، اس آواز کو سن کر آمش کو ایسا لگا جیسے اس کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔

‎جاری ہے

Part 1, Part 2, Part 3Part 5, Part 6

Check Also

Chaar Raten Novel – Part 6

چار راتیں قسط نمبر :6 بقلم : فیضان احمد آمش اور شایان نے اب کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *