Chaar Raten Novel – Part 5

چار راتیں
قسط نمبر : 5
بقلم : فیضان احمد
آمش ڈرتے ڈرتے سیڑھیوں کی طرف بڑھا لیکن اوپر چڑھنے کی ہمت نہ کر سکا
“بابا۔۔۔ با بااا ا ۔۔ ” وہ ڈرتے ڈرتے بابا کو آواز لگانے لگا لیکن اوپر سے کوئی جواب نہیں آیا۔
اس نے بمشکل ہمت باندھ کر اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف قدم رکھا لیکن دو چار قدم سے زیادہ اوپر نہیں چڑھ سکا، اس کی ہمت ہی نہ ہو سکی ۔
“بابا۔۔۔ صلاح الدین بابا ا ا ا۔۔۔ آواز سن رہے ہو میری؟” ایک بار پھر آوازیں لگانے لگا لیکن اوپر سے مکمل خاموشی کے سوا کچھ نصیب نہ ہوا۔ البتہ اس کی اپنی آواز اسے جیسے گونجتی واپس آتی سنائی دی جو ایک عجیب سی بات تھی۔
ایک بار پھر ہمت کر کے وہ ذرا سا اور اوپر چڑھا، جبکہ ایک پوری سیڑھی ابھی باقی تھی جو چھت سے ملتی تھی۔
یکایک اسے ایک بار پھر خوف نے آ گھیرا اوروہ واپس پلٹ گیا اور نیچے اترنے لگا ۔ بمشکل دو قدم اترا ہوگا کے کوئی چیز لڑھکتی ہوئی اس کے پیروں سے آکر ٹکرائی جس سے وہ اپنا توازن بر قرار نہ رکھ سکا اور کمر کے بل سیڑھیوں پر ہی گرا۔
وہ صلاح الدین بابا تھا جو سیڑھیوں پر نا جانے اچانک کہاں سے لڑھکتا ہوا آکر آمش کے پیروں سے ٹکرا یا تھا۔
صلاح الدین بابا بے ہوشی کی حالت میں سیڑھیوں پر لیٹے ہوئے لڑھکتا نیچے آیا تھا، لیکن آمش کو ٹکرانے سے پہلے اس کی کوئی آواز یہاں تک کے لڑکھنے کی آواز بھی نہیں آئی۔
“بابا، بابا ۔۔ کیا ہوا بابا اٹھو” وہ خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہو گیا تھا چونکہ آمش بابا کے اوپر ہی گرا تھا، کسی قسم کی چوٹ سے محفوظ رہا۔
بابا کو اس حالت میں دیکھ کر آمش کے طوطے اڑ گئے، ایک نظر اوپر چھت کی جانب ماری جہاں سیڑھیوں پر اندھیرا اور سناٹا خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔
آمش فوراً بابا کو لے کر کمرے کی طرف بھاگا اور اس پر پانی ڈال کر ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا لیکن نا کامیاب۔
ابھی وہ بابا کو ہوش میں لانے کی کوشش میں تھا کہ اسے نچلے فلور سے ایک زور دار آواز سنائی دی، اس بار آواز پر ساشہ بھی چونک گئی تھی ، اس آواز نے ماحول کو مکمل طور پر خوف کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
“تم نے سنی یہ آواز؟” آمش نے کپکپاتی آواز میں پوچھا۔
ساشہ نے اثبات میں سر ہلا یا اور سہمی ہوئی آمش کی جانب دیکھنے لگی۔
“ساشہ تم بابا کو دیکھو، پانی وغیرہ مارو اور ہوش میں لانے کی کوشش کرو، میں چیک کرتا ہوں” آمش نے ہمت کر کے کھڑے ہو تے ہوئے کہا
“نہیں آمش مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، آپ یہیں رکیں پلیز” ساشہ نے گھبراہٹ کے مارے التجاء کی۔
“بس دو منٹ، میں چیک کر کے آیا” کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
کمرے سے نکل کر پھونکتے ہوئے قدم رکھتا وہ نیچے کی جانب اترنے لگا۔
یہ سیڑھیاں ان کے ہال نما کمرے میں جا کر اترتی تھیں ، جو انکا ٹی وی لاؤنج بھی تھا اور ڈائننگ روم بھی۔
ہال کے وسط میں لگا تزین و آرائش کی غرض سے لگا ہوا جھلملاتا ہوا فانوس تیزی سے ہل رہا تھا، مانو ابھی گر جائے گا۔
فانوس بلا شبہ بہت خوبصورت اور بڑا سا تھا۔ ساتھ ہی اتنا وزن دار تھا کے ہلکی پھلکی ہوا اسے ہلا بھی نہ سکتی تھی۔ وہ اتنی تیزی سے جھول رہا تھا کے گویا کسی نے اسے باقاعدہ ہلایا ہو۔
فانوس کی جلتی بجھتی روشنی اور اس کے شیشوں کی کھڑ کھڑاہٹ اس پر اسرار ماحول کو اور بھی خطرناک بنا رہی تھی۔
“یا اللہ ۔۔ یہ کیا ماجرا ہے” اس نے خود سے کہہ کر سیڑھیوں سے نیچے قدم بڑھانا شروع کیا ہی تھا کے وہاں موجود تمام لائٹس خود بخود آف ہو گئیں۔ لائٹس کا بند ہونا آمش کے لئے انتہائی غیر متوقع تھا ۔
آمش نے واپس بھاگ کر کمرے کا رخ کیا ، اور کمرے کے باہر سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا تو تمام سوئچز آف تھے، اس نے جلدی سے آن کر کے کمرے میں گھسنے میں ہی غنیمت سمجھا۔

بابا کو اب کچھ ہوش آنے لگا تھا ، ساشہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی اسے آوازیں دے کر جگانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی۔
آمش نے بابا کو کمر سے سہارا دے کر بٹھایا اور وہ بدحواسی کے عالم میں ادھر اُدھر کا جائزہ لینے لگا۔
کیا ہوا بابا، جونہی اس کے اوسان بحال ہوئے وہ ساشہ کی طرف دیکھ کرا یک دم کھڑا ہوا اور دروازے کی طرف لپکا۔
“با با کیا ہوا؟ کہاں جا رہے ہو؟” ہم دونوں نے ہی حیرانگی سے پوچھا
“ہم جا رہا ہے یہاں کام نہیں کرے گا” وہ جھڑکنے کے انداز میں کہہ کر تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا۔
آمش جونہی اس کے پیچھے جانے کی غرض سے کمرے سے باہر نکلا تمام لائٹس آن دیکھ کر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا، سوئچ بورڈ پر موجود تمام سوئچز بھی آن ہی تھے۔
آمش بنا رکے صلاح الدین بابا کے پیچھے پیچھے بھاگا اور گیٹ کے قریب اس کے کمرے میں اسے روک لیا۔
“بابا کیا ہوا، کیوں بھاگ رہے ہو ایسے، اوپر چھت پر کیا ہوا ہے؟” آمش نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے پوچھا
“چھوڑو ہمیں صاحب، ہم یہاں کام نہیں کرے گا ہم جا رہا ہے” وہ اپنا ضروری سامان جمع کر رہا تھا
“ارے بابا لیکن ہوا کیا ہے؟ کہاں جا رہے ہو ، مجھے بتاؤ اوپر چھت پر کیا ہوا ہے” آمش نے اسے روک کر کمرے میں موجود چارپائی پر بٹھایا
“صاحب ، آپ نے ہمیں اوپر بھیجا کے جاؤ دیکھ کر آؤ کچھ گرا ہے آواز آئی ہے، ہم اوپر گیا تو بیگم صاحبہ اور حمنہ بے بی اوپر کھڑا ہوا تھا” وہ کپکپاتی ہوئی آواز میں بتا رہا تھا، آمش کا منہ یہ سن کر کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“پھر؟؟؟؟؟؟” آمش نے فوراً پوچھا۔
“صاحب ہم نے بیگم صاحبہ کے پاس جا کر پوچھا کے کیا ہوا ہے تو وہ ہمیں جواب نہیں دے رہا تھا بلکے ہمیں دیکھ کر صرف مسکرا رہا تھا ” وہ بوکھلایا ہوا بتانے لگا
“صاحب، ہم نے بیگم صاحبہ سے پوچھا کیا ہوا ہے تو وہ پہلے ہمیں دیکھ کر ہنستا رہا پھر بولتا ہے وہاں کونے میں کوئی بیٹھا ہوا ہے، جا کر دیکھو، ہم نے وہاں دیکھا تو ادھر کچھ بھی نہیں تھا صرف گملا رکھا ہوا تھا، ہم گملے کو دیکھنے وہاں گیا تو بیگم صاحبہ نے ہمیں دھکا دے دیا، ہم چھت سے نیچے گر جاتا لیکن لوہے کا گرل پکڑ کے ہم بچ گیا ، ہم گرا نہیں، پھر ہم خود کو سنبھال کے واپس کھڑا ہوا تو بیگم صاحبہ کا چہرہ روشنی میں صحیح سے نظر آیا، وہ تو کوئی اور تھا اور ہم نے پھر دیکھا حمنہ بے بی چھت سے نیچے کودنے کا کوشش کر رہا ہے ، وہ دیوار پر چڑھ رہا تھا، ہم بھاگا اس کو بچانے کے لئے ، اور اس نےہمارا پہنچنے سے پہلے چھلانگ لگا دیا، ہم فوراً نیچے جھانکا تو ادھر کوئی بھی نہیں تھا اور ہمیں ایسا لگا جیسے کسی نے پھر سے دھکا دیا ہو ہم نے خود دوبارہ گرتے گرتے بچا یا اور واپس دیکھا تو چھت پر کوئی بھی نہیں تھاپھر تو ہم نیچے آنے کے لئے بھاگا تو ٹیبل خود با خود ہمیں پاؤں پر ٹکرایا، صاحب ہم ٹیبل سے دور تھا پھر بھی پتا نہیں کیسے وہ ہمیں ٹکرا گیا اور ہم زمین پر گرا، پھر پتا نہیں کیا ہوا، ہمیں کچھ پتا نہیں ہے۔
صاحب ہم نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے ، ہمیں ڈر نہیں لگتا کسی سے لیکن یہ ہمیں مار دیگا، بیگم صاحبہ پہلے ہم سے بات کر کے ہمیں وہاں بھیجا پھر ان کا چہرہ بدل گیا۔ہمیں مارنا چاہتا تھا” بابا نے گھبراتے ہوئے اکھڑی سانسوں کے ساتھ سارا قصہ سنایا اور واپس اپنا سامان جمع کرنے لگا
“اچھا با با تم رکو، صبح چلے جانا بے شک” آمش نے بابا سے رکنے کی التجا کی
“ہم جا رہا ہے ابھی یہاں سے ، تم بھی جاؤ ادھر سے تمھارا گھر میں کچھ ہے” وہ سامان اٹھا کر باہر نکل گیا۔
آمش کو یک دم ساشہ کا خیال آیا اور وہ دوڑ کر گھر کے اندر کی طرف بھاگا اور اندر پہنچ کر ادھر ادھر دیکھے بنا فوراً اوپر کا رخ کیا۔
کمرے میں ساشہ کو پا کر اس نے سکون کا سانس لیا اور اس کے برابر میں جا کر بیٹھ گیا، اسے محسوس ہوا ساشہ ایک طرف کچھ گھور گھور کے دیکھ رہی ہے۔
بجائے بابا کے بارے میں پوچھنے کے، یہ کیا دیکھ رہی ہے؟ آمش کے ذہن میں خیال آیا اور اس نے ساشہ کو کاندھے سے پکڑ کرحرکت دی
“ساشہ؟ کیا ہوا ؟ کیا دیکھ رہی ہو” آمش نے قریب ہوتے ہوئے پوچھا
“تم چاہتے تو بچا سکتے تھے” ایک وحشت بھری آواز آمش کی کانوں سے ٹکرائی جو اس کی بیوی کے منہ سے نکلی تھی، آنکھیں خون کی مانند سرخ اور چہرا کئی دنوں کا تھکا ہوا لگ رہا تھا، اس نے آمش کی طرف گردن موڑ کر کہا
آواز میں قدرے بھاری پن تھا۔یہ آواز ، اس آواز سے مختلف نہ تھی جو اس نے جھاڑیوں میں سنی تھی۔
آمش کو یوں لگا جیسے اس آواز نے اسے دور دھکیل دیا ہو۔
آؤ دیکھا نا تاؤ فوراً دروازے کی طرف لپکا اور اسے جونہی کمرے کا لاک گھمایا وہ بند تھا، آمش نے زور آزمائی شروع کر دی ۔
اسی تک و دود میں اسکی ایک نظر ساشہ پر پڑی جو بہت پریشان اور گھبرائی ہوئی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ نظریں ملتے ہی بابا کے بارے میں پوچھنے لگی۔
” کیا ہوا تھا بابا کو آمش” آمش کو اس کی اصل آواز اور چہرے کے تاثرات سے احساس ہوا کے یہ ایک لمحے پہلے والی ساشہ نہیں ہے۔
“چلو یہاں سے” آمش نے ساشہ کا ہاتھ پکڑا اور دوبارہ دروازہ کھولا جو فوراً کھل گیا ۔
کچھ دیر میں وہ لوگ ساشہ کی ماما کے گھر کے باہر موجود تھے جہاں حمنہ پہلے سے رکی ہوئی تھی۔
راستے بھر ساشہ پوچھنے کی کوشش کرتی رہی لیکن آمش تیزی سے گاڑی دوڑاتا رہا اور کچھ بھی بولنے سے اعتراض کیا۔
“ساشہ ، میری بات غور سے سنو” آمش نے ہدایت کرتے ہوئے بات شروع کی۔
“میں تمہیں امی کے گھر چھوڑ رہا ہوں، ہو سکتا ہے ایک دو دن تمہیں یہیں رکنا پڑے، میرے ساتھ گھر میں کچھ عجیب واقعات ہو رہے ہیں اور اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ ہے جو میں نے تم سے بعد میں شیئر کروںگا۔ تمہیں اپنا اور حمنہ کا خیال رکھنا ہےاور میں ان چیزوں سے نمٹ کے تمہیں واپس لے لونگا۔” آمش نے ایک ہی سانس میں مختصر قصہ کہہ ڈالا اور ساشہ ہکا بکا اس کا چہرہ دیکھتی رہی ۔
” تم اندر جاؤ اب میں تم سے فون پر رابطے میں رہونگا۔” آمش نے اسے گاڑی سے اترنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا اور سخت لہجے میں ہدایت کی۔
“آمش پلیز آپ بھی یہیں رک جائیں، مت جائیں وہاں میرا دل ڈوب رہا ہے، مجھے بہت خوف آرہا ہے۔۔ پلیز آمش” ساشہ نے فکر مندی سے گزارش کی
” نہیں میں شایان کو لے کر گھر جاؤنگا، تم فکر نہ کرو، جاؤ اب اندر” آمش نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سمیٹ کر کہا
ساشہ گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر کی طرف چل دی۔
آمش گاڑی واپس موڑ کر گھر کی طرف رواں دواں تھا۔
یہ وہی راستہ تھا جسے آمش نے اس واقعے کے آنے جانے کے لئے منتخب کر لیا تھا اور دوسرا راستہ ترک کر دیا تھا۔
گاڑی دوڑاتے ہوئے اچانک ایک موقع پر آمش کو یہ احساس ہوا کے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر کوئی موجود ہے، اس نے بیک مرر میں دیکھ کر تسلی کی، وہاں کوئی نہیں تھا، البتہ اس کا خوف جو ختم ہوا ہی نہیں تھا اب مزید بڑھ گیا ۔
گاڑی کی اسپیڈ بے اختیار تیز ہو گئی اور آمش دل ہی دل میں اپنی خیریت سے گھر پہنچنے کی دعائیں مانگنے لگا، ساتھ ساتھ وہ بیک مرر میں پچھلی سیٹ کی طرف دیکھتا جاتا اور گاڑی کی اندرونی لائٹ بھی آن کر دی۔
ایک لمحے کے لئے اس کی نظر اپنے موبائل فون پر پڑی اور اس کے ذہن میں شایان کا خیال آیا، دوسرے چند لمحوں میں وہ شایان کے ساتھ لائن پر تھا۔
“شایان، میں تجھے لینے آرہا ہوں، جلدی سے تیار ہو، آج میرے گھر پر رکنا ہے تجھے میرے ساتھ” شایان نے جلدی جلدی اپنی بات مکمل کی ۔
“ابے کیا ہو گیا؟ اس وقت؟” شایان نے چونک کر پوچھا لیکن اگلے ہی لمحے کال منقطع ہو چکی تھی
شایان کے گھر پھنچنے سے 2 منٹ پہلے اس نے کال کی اور گیٹ پر تیار رہنے کی ہدایت جاری کیں۔
“کیا ہو گیا بھائی ؟ اب کیا مسئلہ ہو گیا یار” شایان نے آمش کے پہنچتے ہی سوال داغ دیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
” کیا ہو گیا؟ ابے یہ پوچھ کیا نہیں ہوا!! ” بھائی پوچھ مت کیا کیا ہو رہا ہے، چوکیدار بابا بھاگ گیا، لائٹس خود آن ہو جاتی ہیں کبھی آف، فانوس ہل رہا ہے، کبھی ساشہ اپنا روپ بدل رہی ہے تو کبھی لگ رہا ہے گاڑی میں پیچھے کوئی بیٹھا ہوا ہے، بس بہت ہو گیا یار اب کچھ کرنا ہی پڑے گا مجھے” آمش نے طلملا کر ساری بات سنائی اور غصے میں گاڑی تیز بھگا تا رہا۔
“او بھائی! زیادہ جذباتی مت بن، عقل سے کام لے عقل سے، وہ کوئی پہلوان نہیں جس سے تو اس طرح لڑنے جا رہا ہے!!” شایان نے سمجھانے والے انداز میں کہا اور ساتھ ہی پیچھے مڑ کر سیٹ کو چیک کرنے لگا۔
” ابے یار تو میں کیا کروں یہ میرے پیچھے پڑ گئی ہے ، تم چاہتے تو بچا سکتے تھے، تم چاہتے تو بچا سکتے تھے، ابے کہاں سے بچاتا میں، اپنی بیوی اور بچی کو لے کر ان درختوں میں گھسا دیتا گاڑی؟ ایکسیڈینٹ کر دیتا گاڑی کا؟ تو خود بتا یار تو میری جگہ ہوتا تو کیا کرتا؟ یار میں نے کیا غلط کیا ہے” آمش نے تقریباً روہانسی ہوتے ہوئے غصے بھری آواز میں کہا
” بھائی میں سمجھ سکتا ہوں تیری غلطی نہیں ہے، مگر اسے تو سمجھا سکتا ہے یہ بات؟” شایان نے یہ کہہ کر آمش کے ہونٹوں کو سی دیا ۔۔۔ اور سوالیہ نظروں سے آمش کی جانب دیکھنے لگا
آمش تیز ی سے گاڑی بھگا رہا تھا ، افسردہ چہرہ بنا کر گاڑی کی سپیڈ کچھ کم کر دی
” نہیں یار۔۔۔ لیکن اب کیا حل ہے اس مسئلے کا شایان، کیا کرنا چاہئے ہمیں؟ ان کیمروں کی مدد سے ہم کیا کریں گے، صرف ریکارڈنگ نہ؟ لیکن ہم کچھ نہیں کر پائے تو کل کو لوگ کیمرے کی ریکارڈنگ میں یہ دیکھیں کے مجھے آ کر کسی نے مار دیا۔ پھر ؟ کیا فائدہ۔۔” آمش کے سوال نے شایان کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔
ان کی گفتگو کے دوران گاڑی کی سپیڈکچھ سلو ہو گئی تھی، آمش کی نظر سامنے روڈ پر اور شایان بیک مرر میں پچھلی سیٹ پر غور کر رہا تھا۔ یکایک آمش کو ایسا لگا جیسے سامنے اندھیرا چھا گیا ہو، ونڈ اسکرین پر کالے کپڑے نما کسی چیز نے سامنے کا منظر اوجھل کر دیا تھا۔
یکایک گاڑی کا ہینڈل بائیں جانب خود مڑا اور اسی دوران انہوں نے محسوس کیا کے وہ کسی اندھیرے والی جگہ میں داخل ہو رہے ہیں۔
“شایان، گاڑی خود چل رہی ہے میں کچھ نہیں کر پا رہا” وہ چلا چلا کر بول رہا تھا، اور بریک پر زور زور سے پاؤں مار رہا تھا
“گاڑی روک آمش ، گاڑی روووووککککک۔۔ آمش گاڑی رووووکک۔۔۔” شایان چلا رہا تھا۔
“شایان ن ن ن کچھ کر یار گاڑی خود چل رہی ہےےےے۔۔۔ شایا ا ا انن ن ن” آمش کی چیخیں گونج رہی تھیں
دونوں بری طرح چلا رہے تھے اور ساتھ ہی مل کر ہینڈل کو موڑنے کی کوشش تو کبھی دروازہ کھولنے کی جدوجہد کر نے لگے، لیکن بے سدھ

جاری ہے

Check Also

Chaar Raten Novel – Part 6

چار راتیں قسط نمبر :6 بقلم : فیضان احمد آمش اور شایان نے اب کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *